مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ باب · حديث 4471
4471 - وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ عَلَى كِلَابِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى مَجْلِسِ الْعَاشِرِ بِالْبَصْرَةِ، فَقَالَ: مَا يُجْلِسُكَ هَهُنَا؟ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عَلَى هَذَا الْمَكَانِ - يَعْنِي زِيَادًا - فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: بَلَى. فَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كَانَ لِدَاوُدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [مِنَ اللَّيْلِ] سَاعَةٌ يُوقِظُ فِيهَا أَهْلَهُ يَقُولُ: يَا آلَ دَاوُدَ، قُومُوا فَصَلُّوا، فَإِنَّ هَذِهِ سَاعَةٌ يَسْتَجِيبُ اللَّهُ فِيهَا الدُّعَاءَ إِلَّا لِسَاحِرٍ أَوْ عَاشِرٍ ". فَرَكِبَ كِلَابُ بْنُ أُمَيَّةَ سَفِينَةً، فَأَتَى زِيَادًا، فَاسْتَعْفَاهُ فَأَعْفَاهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.
حسن بصری بیان کرتے ہیں: حضرت عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ کا گزر کلاب بن امیہ کے پاس سے ہوا، جو بصرہ میں عشر وصول کرنے والے کی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے دریافت کیا: تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ انہوں نے جواب دیا مجھے اس نے اس جگہ پر عامل مقرر کیا ہے، اُن کی مراد یہ تھی زیادنے ایسا کیا ہے، تو حضرت عثمان بن ابوالعاص نے رضی اللہ عنہ ان سےکہا: کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ بیان کروں؟ جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے، کلاب بن امیہ نے جواب دیا: جی ہاں ! تو حضرت عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے:’’اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام رات کے ایک مخصوص حصے میں، اپنے اہل خانہ کو بیدار کرتے تھے ،اور یہ کہتے تھے: اے داؤد کے گھر والو!تم اٹھو اور نماز ادا کرو ،کیونکہ یہ ایک ایسی گھڑی ہے ،جس میں اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے، صرف جادو کرنے والے ،اورعشر وصول کرنے والے کی دعا قبول نہیں کرتا‘‘۔ تو کلاب بن امیہ کشتی میں سوار ہوکر زیاد کے پاس آئے اورانہوں نے استعفی ٰدے دیا ،تو اس نے ان کا استعفیٰ قبول کرلیا۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔
الْحَسَنِ،
Hadith 4471
