مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ أَتَمَّ الصَّلَاةَ فِي السَّفَرِ] · حديث 2950
2950 - عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ حَاجًّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ: فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى دَارِ النَّدْوَةِ قَالَ: وَكَانَ عُثْمَانُ حِينَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ صَلَّى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ أَرْبَعًا أَرْبَعًا فَإِذَا خَرَجَ إِلَى مِنًى وَعَرَفَاتٍ قَصَرَ الصَّلَاةَ، فَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْحَجِّ وَأَقَامَ بِمِنًى أَتَمَّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَخْرُجَ فَلَمَّا صَلَّى بِنَا مُعَاوِيَةُ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ نَهَضَ إِلَيْهِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَقَالَا لَهُ: مَا عَابَ أَحَدٌ ابْنَ عَمِّكَ بِأَقْبَحَ مَا عِبْتَهُ بِهِ فَقَالَ لَهُمَا: وَيَحَكُمَا!! وَهَلْ كَانَ غَيْرُ مَا صَنَعْتُ؟ قَدْ صَلَّيْتُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ فَقَالَا: فَإِنَّ ابْنَ عَمِّكَ قَدْ كَانَ أَتَمَّهَا وَإِنَّ خِلَافَكَ إِيَّاهُ عَيْبٌ لَهُ قَالَ: فَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْعَصْرِ فَصَلَّاهَا بِنَا أَرْبَعًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهُ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ.
عباد بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : جب حضرت معاویہ حج کرنے کے لئے ہمارے پاس آئے اور ہم لوگ مکہ آ گئے تو انہوں نے ظہر کی نماز میں دو رکعات پڑھائیں پھر وہ نماز ختم کر نے کے بعد دار الندوہ کی طرف گئے انہوں نے بتایا : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جب مکہ آنے کے بعد مکمل نماز ادا کی تھی اور وہاں ظہر عصر اور عشاء کی نماز میں چار چار رکعات پڑھائی تھیں ، جب وہ منی ٰ اور عرفات کی طرف آئے تھے تو انہوں نے نماز مختصر ادا کی تھی جب وہ حج سے فارغ ہوئے اور منیٰ میں مقیم ہوئے تو انہوں نے مکمل نماز ادا کی یہاں تک کہ وہ وہاں سے روانہ ہو گئے اور حضرت معاویہ نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں تو مروان بن حکم اور عمرو بن عثمان ان کی طرف گئے اور ان دونوں سے کہا کسی نے بھی آپ کے چچا زاد پر اس طرح اعتراض نہیں کیا جس طرح نکا اعتراض آپ نے ان پر کیا ہے حضرت معاویہ نے ان لوگوں سے دریافت کیا : تم دونوں کا ستیا ناس ہو کای میں نے جو کیا ہے اس کے علاوہ کرنا چاہیئے تھا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی اقتداء میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں دو رکعات ہی ادا کی ہیں ، تو ان دونوں صاحبان نے کہا( یعنی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ) تو نماز مکمل کرتے تھے ، اور آپ نے ان کے برخلاف کر کے ان پر اعتراض کر دیا ہے راوی بیان کرتے ہیں: تو حضرت معاویہ عصر کی نماز کے لیے نکلے ، تو انہوں نے عصر کی نما زمیں ہمیں چار رکعات پڑھائیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ معجم کبیر میں نقل کیا ہے امام احمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے
عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ،
Hadith 2950
