مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابُ هَدَايَا الْأُمَرَاءِ] · حديث 6741
6741 - «عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَخْرِ بْنِ لَوْذَانَ، وَكَانَ مِمَّنْ بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ عُمَّالٍ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ مُعَلِّمًا إِلَى الْيَمَنِ: " إِنِّي قَدْ عَرَفْتُ بَلَاءَكَ فِي الدِّينِ، وَقَدْ طَيَّبْتُ لَكَ الْهَدِيَّةَ، فَإِنْ أُهْدِيَ لَكَ شَيْءٌ فَاقْبَلْ ". فَرَجَعَ حِينَ رَجَعَ بِثَلَاثِينَ رَأْسًا أُهْدُوا لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ عُمَرَ التَّمِيمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ إِسْنَادُهَا جَيِّدٌ فِي الْفَلَسِ وَالْحَجْرِ.
حضرت عبداللہ بن صخر بن لو ذان رضی اللہ عنہ، جو ان افراد میں سے ایک ہیں، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمال کے ہمراہ یمن بھیجا تھا، وہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو معلم بنا کے یمن کی طرف بھیجا تو آپ نے ان سے فرمایا: دین کے بارے میں تمہاری آزمائش سے میں واقف ہوں، اور میں تمہارے تحفے کو پاکیزہ قرار دیتا ہوں، اگر تمہیں کوئی چیز تحفے کے طور پر دی جائے، توتم قبول کرلینا۔ جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو ان کے پاس تیس جانور تھے (یا غلام تھے) جوانہیں تحفے کے طور پر دیے گئے تھے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی سیف بن عمر تمیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس سے پہلے اس روایت کے مختلف طرق گزر چکے ہیں، مفلس ہونے کی حالت میں تصرف سے روکنے سے متعلق اس کی سند جید ہے۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › [Chapter of the gifts of women] · Hadith 6741
