مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابٌ فِي الْإِمَامِ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ فَيُصَلِّي غَيْرُهُ] · حديث 2388
2388 - «عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَاجَتِهِ فَأَدْرَكَتْهُمْ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَتَقَدَّمَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ خَلْفَهُ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: " أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ: رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَثَّقَهُ هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ وَقَالَ أَحْمَدُ: لَا بَأْسَ بِهِ فِي أَحَادِيثِ الرِّقَاقِ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کسی کام کے سلسلے میں تشریف لے گئے لوگوں کو نماز کا وقت ہو گیا تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے (بڑھے انہوں نے نماز پڑھانی شروع کی) پھر نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے آپ نے لوگوں کے ہمراہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں نے اچھا کیا(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) تم لوگوں نے ٹھیک کیا، یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی رشد بن سعد ہے، جسے ہیثم بن خارجہ نے "ثقہ" قرار دیا ہے، امام احمد کہتے ہیں: دلوں کو نرم کرنے والے مضمون سے متعلق احادیث میں اس شخص میں کوئی حرج نہیں ہے ایک جماعت نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے، اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے۔
ثَّقَهُ هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ← أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ: رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › A door in the imam who has a need, so someone else prays] · Hadith 2388
