مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ حُضُورِ النِّسَاءِ عِنْدَ الْمَيِّتِ] · حديث 3940
3940 - عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ الْيَمَانِ أُخْتِ حُذَيْفَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ وَلَا عِنْدَ مَيِّتٍ فَإِنَّهُنَّ إِذَا اجْتَمَعْنَ قُلْنَ وَقُلْنَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي الْمَسَاجِدِ بِنَحْوِهِ.
سیّدہ خولہ بنت یمان رضی اللہ عنہ جو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں وہ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشادفرماتے ہوئے سناہے:’’ خواتین کی جماعت اور میت کے پاس ان کی موجودگی میں کوئی بھلائی نہیں ہے کیونکہ اگر وہ اکٹھی ہوں گی تووہ یہ کہیں گی اور و ہ کہیں گی‘ ‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے‘ اور وہ متروک ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: ) میں یہ کہتا ہوں اس کی مانند روایت مساجد سے متعلق باب میں پہلے گزر چکی ہے۔
رَسُولِ اللَّهِ ← خَوْلَةَ بِنْتِ الْيَمَانِ أُخْتِ حُذَيْفَةَ
Hadith 3940
