مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ باب · حديث 6619
6619 - وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: «أَضَافَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَيْفًا فَلَمْ يَلْقَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا يَصْلُحُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ: " يَقُولُ لَكَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ: أَسْلِفْنِي دَقِيقًا إِلَى هِلَالِ رَجَبٍ ". قَالَ: لَا، إِلَّا بِرَهْنٍ. فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ: " أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَمِينٌ فِي السَّمَاءِ أَمِينٌ فِي الْأَرْضِ، وَلَوْ أَسْلَفَنِي أَوْ بَاعَنِي لَأَدَّيْتُ إِلَيْهِ ". فَلَمَّا خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ} [طه: 131] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ؛ يَعْزِفُهُ عَنِ الدُّنْيَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ایک مہمان آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت کوئی ایسی چیز موجود نہیں تھی، جو اس کے لئے سہولت کا باعث ہو سکے تونبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی طرف پیغام بھیجا کہ اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں یہ کہ رہے ہیں تم ہمیں رجب کے پہلی کے چاند پرادائیگی کرنے کی شرط پر کچھ آٹا ادھار دے دو، اس نے کہا: جی نہیں! صرف رہن کے طور پر دیا جاسکتا ہے، راوی کہتے ہیں: میں نبی اکرم ا کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ کی قسم! میں آسمان کے بارے میں بھی امین ہوں اور زمین کے بارے میں بھی امین ہوں، اگر وہ مجھے ادھار دے دیتا تو میں نے اسے ادائیگی کر ہی دینی تھی‘‘۔ راوی کہتے ہیں: جب میں آپ کے پاس سے نکلا، تو یہ آیت نازل ہوئی: ’’اورتم اپنی نگاہیں اُن چیزوں کی طرف نہ لے جاؤ، جو ہم نے ان میں سے بعض لوگوں کو (دنیاوی) ساز و سامان میں سے دی ہیں......‘‘یہ آیت کے آخر تک ہے۔ اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا سے الگ رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزارنے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربزی ہے اور وہ ضعیف ہے۔
أَبِي رَافِعٍ
Hadith 6619
