مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِيمَنْ أَحْسَنَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ أَوْ أَسَاءَ] · حديث 339
339 - عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَقَالَ: " مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ مِنْكُمْ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَسِيدُ بْنُ زَيْدٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ. [بَابُ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم نے زمانہ جاہلیت میں جو عمل کئے تھے کیا ان کے حوالے سے ہمارا مواخذہ ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اسلام قبول کرنے کے بعد اچھے کام کرے ، اس کے ان کاموں کا مواخذہ نہیں ہو گا، جو اس نے زمانہ جاہلیت میں کئے تھے ، اور تم میں سے جو شخص اسلام قبول کرنے کے بعد بھی برے کا م کرے گا، تو اس نے زمانہ جاہلیت میں ، اور زمانہ اسلام میں ، جو برے کام کئے ہوں گے ، ان ( سب) کے حوالے سے اس شخص کا مواخذہ ہو گا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی اسید زید ہےاور وہ کذاب ہے۔
جَابِرٍ
Hadith 339
