مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابُ أَوْقَاتِ الطَّوَافِ] · حديث 5505
5505 - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الطَّوَافِ بِالْكَعْبَةِ فَقَالَ: كُنَّا نَطُوفُ فَنَمْسَحُ الرُّكْنَ: الْفَاتِحَةَ وَالْخَاتِمَةَ، وَلَمْ نَكُنْ نَطُوفُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ. وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تَطْلُعُ الشَّمْسُ فِي قَرْنِ الشَّيْطَانِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ حَسَّنُوا حَدِيثَهُ.
ابوزبیر بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے خانہ کعبہ کا طواف کرنے کے بارے میں دریافت کیا۔ تو انہوں نے بتایا ہم طواف کرتے تھے اور آغاز میں اور اختتام پر رکن پر ہاتھ پھیرتے تھے ہم صبح کی نماز کے بعد سورج کے نکلنے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج کے غروب ہونے تک طواف نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’سورج شیطان کے سینگ میں طلوع ہوتا ہے‘‘ ۔یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے لوگوں نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔
الطَّوَافِ ← سَأَلْتُ جَابِرًا ← أَبِي الزُّبَيْرِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Pilgrimage] › [Chapter of the times of Tawaf] · Hadith 5505
