مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابُ كَمْ تُجْزِئُ الْبَدَنَةُ وَالْبَقَرَةُ] · حديث 5390
5390 - عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ: الْجَزُورُ وَالْبَقَرَةُ تُجْزِئُ عَنْ سَبْعَةٍ؟ قَالَ: يَا شَعْبِيُّ وَلَهَا سَبْعَةُ أَنْفُسٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنَّ الْجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ؟ قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لِرَجُلٍ: أَكَذَاكَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: مَا شَعَرْتُ بِهَذَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
امام شعبی بیان کر تے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓسے سوال کیا: کیا ایک اونٹ اور ایک گائےسات افراد کی طرف سے کفایت کر جاتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اے شعبی! کیاوہ سات آدمیوں کے لئے ہوں گے؟ میں نے کہا: حضرت محمد ﷺکے اصحاب کا تو یہی کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺنے یہ سنت مقر ر کی ہے کہ ایک اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے اور ایک گائےسات آدمیوں کی طرف سے قربان کی جائےگی تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓنے ایک شخص سےدریافت کیا: اے فلاں! کیا ایسا ہی ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں ۔ تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا : مجھے اس کا پتہ نہیں تھا۔یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال’’صحیح‘‘کے رجال ہیں ۔
قُلْتُ إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ يَزْعُمُونَ ← يَا شَعْبِيُّ وَلَهَا سَبْعَةُ أَنْفُسٍ ← سَبْعَةٍ» ← سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ الْجَزُورُ وَالْبَقَرَةُ تُجْزِئُ ← الشَّعْبِيِّ،
Hadith 5390
