مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ الْوِتْرِ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَآخِرَهُ وَقَبْلَ النَّوْمِ] · حديث 3474
3474 - عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، زَادَ الطَّبَرَانِيُّ: فَأَيُّ ذَلِكَ فَعَلَ كَانَ صَوَابًا.
حضرت ابومسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم رات کے ابتدائی حصے میں یا درمیانی حصے میں یا آخری حصے میں (یعنی کسی بھی وقت میں ) وتر ادا کر لیتے تھے۔یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نےمعجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں امام طبرانی نے یہ الفاظ زنقل کیے ہیں:’’ آدمی اس میں سے جو بھی کر لے گا وہ درست ہوگا۔
أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو
Hadith 3474
