مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّؤَالِ] · حديث 4502
4502 - عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: «رُبَّمَا سَقَطَ الْخِطَامُ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: فَيَضْرِبُ بِذِرَاعِ نَاقَتِهِ فَيُنِيخُهَا فَيَأْخُذُهُ. قَالَ: فَقَالُوا لَهُ: أَفَلَا أَمَرْتَنَا فَنُنَاوِلْكَهُ. قَالَ: إِنَّ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي أَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ فِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
ابن ابو ملیکہ بیان کرتے ہیں : بعض اوقات حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے لگام گر جاتی تھی، تو وہ اپنی کلائی کے ذریعے اپنی اونٹنی کو مار کر اسے بٹھاتے تھے، پھر وہ اس لگام کو خود اٹھاتے تھے، لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے ہمیں حکم دینا تھا، ہم یہ آپ کو پکڑا دیتے، تو انہوں نے فرمایا: میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں لوگوں سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، ابن ابوملیکہ نامی راوی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے، عبد الله بن مؤمل نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے، اور اس کی توثیق کی گئی ہے۔
لَهُ: أَفَلَا أَمَرْتَنَا فَنُنَاوِلْكَهُ. ← فَيَضْرِبُ بِذِرَاعِ نَاقَتِهِ فَيُنِيخُهَا فَيَأْخُذُهُ ← «رُبَّمَا سَقَطَ الْخِطَامُ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ
Hadith 4502
