مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ فِي مَنْ كَتَبَ بِقَلَمِهِ خَيْرًا أَوْ غَيْرَهُ] · حديث 576
576 - عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، مَا تَقُولُ فِيَّ؟ قَالَ: وَمَا عَسَى أَنْ أَقُولَ فِيكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي عَامِلٌ بِقَلَمٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «يُؤْتَى بِصَاحِبِ الْقَلَمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي تَابُوتٍ مِنْ نَارٍ مُقْفَلٍ عَلَيْهِ بِأَقْفَالٍ مِنْ نَارٍ، [فَيُنْظَرُ قَلَمُهُ فِيمَنْ أَجْرَاهُ] فَإِنْ كَانَ أَجْرَاهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَرِضْوَانِهِ فُكَّ عَنْهُ التَّابُوتُ، وَإِنْ كَانَ أَجْرَاهُ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ هَوَى بِهِ فِي التَّابُوتِ سَبْعِينَ خَرِيفًا حَتَّى بَارِي الْقَلَمِ وَلَائِقِ الدَّوَاةِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَيُّوبُ الْجِيزِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، وَالظَّاهِرُ أَنَّ آفَةَ هَذَا الْحَدِيثِ الْجِيزِيُّ ; لِأَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ فِي الْأَوْسَطِ: تَفَرَّدَ بِهِ الْجِيزِيُّ.
عطاء بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا : اے ابو عباس ! میرے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہارے بارے میں ، کس حوالے سے رائے دوں ؟ اس نے کہا : میں قلم کے ذریعے کام کرنے والا شخص ہوں، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : " قیامت کے دن قلم والے شخص کو آگ سے بنے ہوئے تابوت میں لایا جائے گا جس پر آگ سے بنے ہوئے تالے لگے ہوں گے ، اور پھر اس شخص کے قلم کا جائزہ لیا جائے گا کہ اس نے اس قلم کو کس کام میں استعمال کیا ؟ اگر اس نے اس قلم کو اللہ کی اطاعت اور اس کی رضا مندی کے کام میں استعمال کیا ہوگا، تو اسے تابوت سے نجات مل جائے گی اور اگر اس نے اس قلم کو اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کے کام میں استعمال کیا ہوگا، تو وہ اس تابوت میں ستر سال تک ( جہنم میں ) گرتا رہے گا ، یہاں تک کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہے گا " ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے ایوب جیزی نے اسماعیل بن عیاش سے روایت کیا ہے ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس میں خرابی کی جڑ جیزی نامی راوی ہے ، کیونکہ امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جیزی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔
وَمَا عَسَى ← يا أبا عباس ما تقول في ← كنت عند ابن عباس فأتاه رجل ← عَطَاءٍ،
Hadith 576
