مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى مَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ] · حديث 4208
4208 - عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «تُوُفِّيَ رَجُلٌ، فَغَسَّلْنَاهُ، وَكَفَّنَّاهُ، وَحَنَّطْنَاهُ، ثُمَّ أَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: تُصَلِّي عَلَيْهِ؟ فَخَطَا خُطْوَةً، ثُمَّ قَالَ: " أَعَلَيْهِ دَيْنٌ؟ "، قُلْتُ: دِينَارَانِ، فَانْصَرَفَ، فَتَحَمَّلَهَا أَبُو قَتَادَةَ، فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: الدِّينَارَانِ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَوْفَى اللَّهُ حَقَّ الْغَرِيمِ، وَبَرِئَ مِنْهَا الْمَيِّتُ "، قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ: " مَا فَعَلَ الدِّينَارَانِ؟ "، قُلْتُ: إِنَّمَا مَاتَ مِنَ الْأَمْسِ، قَالَ: فَعَادَ إِلَيْهِ مِنَ الْغَدِ قَالَ: قَدْ قَضَيْتُهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْآنَ بَرُدَتْ عَلَيْهِ جِلْدَتُهُ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص کا انتقال ہوگیا ہم نے اسے غسل دیا اسے کفن پہنایا اسے خوشبو لگائی پھر ہم اس کی میت لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تا کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں ہم نے عرض کی: آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قدم چلے پھر آپ نے دریافت کیا: کیا اس کے ذمہ قرض ہے؟ میں نے عرض کی: دو دینار ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑ گئے تو حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ادائیگی اپنے ذمہ لی ہم دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: دونوں دیناروں کی ادائیگی میرے ذمہ ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰٰ قرض کے خواہ کے حق کو ادا کر دے گا، اور میت اس سے آزاد ہو جائے گی حضرت ابوقاده رضی اللہ عنہ کہا ٹھیک ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن صاحب کی نماز جنازہ پڑھائی اس کے ایک دن بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: دودیناروں کا کیا بنا میں نے عرض کی: اس شخص کا گزشتہ دن تو انتقال ہوا ہے راوی کہتے ہیں: پھر وہ اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: میں نے ان دونوں کو ادا کر دیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اب اس کی جلد اس پر ٹھنڈی ہوئی ہے۔ (علام ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزارنے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔
جَابِرٍ
Hadith 4208
