مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ أَسْلَمَ] · حديث 6977
6977 - عَنْ كَرَدْمِ بْنِ سُفْيَانَ «أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ نَذْرٍ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " أَلِوَثَنٍ أَوْ لِنُصُبٍ؟ ". قَالَ: لَا، وَلَكِنْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى. قَالَ: " فَأَوْفِ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَا جَعَلْتَ لَهُ. انْحَرْ عَلَى ثَوَابِهِ وَأَوْفِ نَذْرَكَ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ.
حضرت کردم بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی نذر کے بارے میں دریافت کیا جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں مانی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: کیا وہ کسی بت کے لئے یاکسی مخصوس عبادت کے مقام کے لیے تھی ؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں! بلکہ الله تعالیٰ کے لئے تھی نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: پھرتم اللہ تعالیٰ کے لئے اسے پورا کرو جوتم نے الله تعالیٰ کے لئے طے کیا ہے اور اس کے ثواب کے حصول کے لئے جانورقربان کرو اور اپنی نذر پوری کرو۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایساراوی ہے ،جس کی شناخت نہیں ہوسکی۔
لَا وَلَكِنْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ أَلِوَثَنٍ أَوْ لِنُصُبٍ؟ ← نَذْرٍ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ← كَرَدْمِ بْنِ سُفْيَانَ «أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The book of oaths and vows] › Chapter on those who make a vow in Jahiliyyah, then embrace Islam] · Hadith 6977
