مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَسْوَاقِ] عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ «أَنْ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي؛ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ مَوْضِعًا لِلسُّوقِ أَفَلَا تَنْظُرُ إِلَيْهِ؟ قَالَ: " بَلَى ". فَقَا · حديث 6325
6325 - وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ قَالَ: " لَا أَدْرِي ". فَلَمَّا أَتَاهُ جِبْرِيلُ قَالَ: " يَا جِبْرِيلُ، أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي حَتَّى أَسْأَلَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّكَ سَأَلْتَنِي: أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ: أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ فَقَالَ: أَسْوَاقُهَا» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا.
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! شہروں میں کون سا حصہ سب سے زیادہ برا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا : مجھے نہیں معلوم پھر جب حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: جبرائیل شہروں میں کون ساحصہ زیادہ برا ہے؟ انہوں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم میں اس بارے میں اپنے پروردگار سے دریافت کروں گا راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام چلے گئے پھر جتنا اللہ کومنظوراتنی دیر کے بعد وہ آئے اور بولے: اے حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے مجھ سے دریافت کیا تھا شہروں میں کون سا حصہ زیادہ برا ہے؟ تو میں نے بتایا تھا کہ مجھے نہیں معلوم‘ میں نے اپنے پروردگار سے سوال کیا کہ شہروں میں کون سا حصہ زیادہ برا ہے؟ تو اس نے فرمایا: وہاں کے بازار ۔یہ روایت امام احمد امام ابو یعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے۔
جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ
Hadith 6325
