مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي النِّفَاقِ وَعَلَامَاتِهِ وَذِكْرِ الْمُنَافِقِينَ] · حديث 411
411 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «إِنَّ لِلْمُنَافِقِينَ عَلَامَاتٍ يُعْرَفُونَ بِهَا: تَحِيَّتُهُمْ لَعْنَةٌ، وَطَعَامُهُمْ نُهْبَةٌ، وَغَنِيمَتُهُمْ غُلُولٌ، لَا يَقْرَبُونَ الْمَسَاجِدَ إِلَّا هَجْرًا، وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا دُبُرًا مُسْتَكْبِرِينَ إِلَّا بِالْقَوْلِ، لَا يَأْلَفُونَ وَلَا يُؤْلَفُونَ، خُشُبٌ بِاللَّيْلِ صُخُبٌ بِالنَّهَارِ "، وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً: سُخُبٌ بِالنَّهَارِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " منافقین کی مخصوص علامات ہیں ، جن کے ذریعے وہ پہچانے جاتے ہیں ، ان کی تحیت ( یعنی سلام کرنے کا طریقہ ( لعنت ہوتی ہے ، اس کا کھانا، اچک کر حاصل کی گئی چیز ہوتی ہے ، ان کی غنیمت ، خیانت ہوتی ہے ، وہ صرف بلند آواز میں بری بات کہنے کے لیے مساجد کے قریب جاتے ہیں اور وہ نماز کی طرف پیٹھ پھیر دیتے ہیں ، وہ تکبر کرتے ہوئے ایسا کرتے ہیں ، نہ وہ ( مسلمانوں کے ساتھ ) الفت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان سے الفت رکھی جاتی ہے ، وہ رات کے وقت لکڑی ہوتے ہیں اور دن کے وقت چیخ و پکار کرتے ہیں " ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن قدامہ جمحی ہے جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام دار قطنی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Hadith 411
