مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابٌ فِي الشَّهِيدِ] · حديث 4082
4082 - عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَكَانَ يُدْعَى فِي زَمَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَارِئَ، وَكَانَ لَقِيَ عَدُوًّا، فَانْهَزَمَ مِنْهُمْ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: هَلْ لَكَ فِي الشَّامِ لَعَلَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَيْكَ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا الْعَدُوَّ الَّذِي فَرَرْتُ مِنْهُمْ، قَالَ: فَخَطَبَهُمْ بِالْقَادِسِيَّةِ، فَقَالَ: إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا، وَإِنَّا مُسْتَشْهِدُونَ فَلَا تَغْسِلُوا عَنَّا دَمًا، وَلَا نُكَفَّنُ إِلَّا فِي ثَوْبٍ كَانَ عَلَيْنَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت سعید بن عبید رضی اللہ عنہ جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قاری کہا جاتا تھا ان کا دشمن سے سامنا ہوادشمن نے ان لوگوں کو پسپا کر دیا ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ شام جانا چاہیں گے ہوسکتا ہے اللہ تعالی ٰآپ پر مہربانی کرے انہوں نے کہا: جی نہیں! میں اس دشمن کی طرف جانا چاہوں گا جس سے میں فرار ہوا تھا راوی بیان کرتے ہیں: پھرانہوں نے ’’ قادسیہ ‘‘ کے مقام پر ان لوگوں کوخطبہ دیتے ہوئے یہ کہا : کل اگر اللہ نے چاہا ‘تو ہم دشمن کا سامنا کریں گے اور ہم جام شہادت نوش کریں گے ‘تم ہمارے خون کو نہ دھونا اور ہمیں اس کپڑے کا کفن دینا ‘ جو ہمارے جسم پر موجود ہو گا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں۔
كَانَ يُدْعَى فِي زَمَنِ النَّبِيِّ الْقَارِئَ، وَكَانَ لَقِيَ عَدُوًّا فَانْهَزَمَ مِنْهُمْ، ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter in the martyr] · Hadith 4082
