مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ باب · حديث 6151
6151 - وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: «كُنْتُ صَاحِبَةَ عَائِشَةَ الَّتِي هَيَّأَتْهَا وَأَدْخَلَتْهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعِي نِسْوَةٌ قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا وَجَدْنَا عِنْدَهُ قِرًى إِلَّا قَدَحًا مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ عَائِشَةَ فَاسْتَحْيَتِ الْجَارِيَةُ، فَقُلْنَا: لَا تَرُدِّي يَدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خُذِي مِنْهُ، فَأَخَذَتْهُ عَلَى حَيَاءٍ، فَشَرِبَتْ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: " نَاوِلِي صَوَاحِبَكِ ". فَقُلْنَا: لَا نَشْتَهِيهِ. فَقَالَ: " لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا ". قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ قَالَتْ إِحْدَانَا لِشَيْءٍ تَشْتَهِيهِ: لَا أَشْتَهِيهِ يُعَدُّ ذَلِكَ كَذِبًا؟ قَالَ: " إِنَّ الْكَذِبَ يُكْتَبُ كَذِبًا حَتَّى تُكْتَبَ الْكُذَيْبَةُ كُذَيْبَةً». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو شَدَّادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ رَوَى عَنْهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ كَانَتْ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ مَعَ زَوْجِهَا جَعْفَرٍ حِينَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَائِشَةَ، وَالصَّوَابُ حَدِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
سیّدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ والی ان خواتین میں سے ایک تھی جنہوں نے انہیں تیار کیا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ان کی رخصتی کروائی تھی میرے ساتھ کچھ اور خواتین بھی تھیں سیّدہ اسماء رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں اللہ کی قسم ہم نے آپ کی مہمان نوازی کے لئے صرف دودھ کا ایک پیالہ پا یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے پی لیا پھر وہ آپ نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھایا تو وہ شرما گئیں ہم نے کہا: تم اللہ کے رسول کے ہاتھ کو واپس نہ کرو اور اسے لے لوتو انہوں نے شرماتے ہوئےوہ لے لیا اور اس میں سے وہ پی لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنی سہیلیوں کو بھی دو ہم نے کہا: ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم بھوک اور غلط بیانی کو جمع نہ کروسیّدہ اسماء رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! اگر ہم میں سے کوئی ایک عورت کسی چیز کی خواہش مند ہو اور پھر وہ یہ کہے کہ مجھے اس کی خواہش نہیں ہے تو یہ چیز بھی جھوٹ شمار ہوگی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جھوٹ کو جھوٹ لکھا جائے گا یہاں تک کہ چھوٹے جھوٹ کو چھوٹا جھوٹ نوٹ کیا جائے گا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوشداد ہے اس نے مجاہد کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے ان سے یہ روایت ابن جریج اور یونس بن یزید نے نقل کی ہے اور اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ یہ بات ہے کہ سیّدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی شادی کے وقت اپنے شوہر اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حبشہ کی سرزمین پر موجود تھیں درست یہ ہے کہ حدیث سیّد واسماء بنت یزید ب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے باقی اللہ بہتر ہے۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔
أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hunting and Slaughterers] › Chapter · Hadith 6151
