مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ الْإِسْلَامِ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ] · حديث 73
73 - عَنْ نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ الرِّيَاحِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ فَلَمْ أَجِدْهُ، وَرَأَيْتُ الْمَرْأَةَ، فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ: هُوَ ذَاكَ فِي ضَيْعَةٍ لَهُ، فَجَاءَ يَقُودُ - أَوْ يَسُوقُ - بَعِيرَيْنِ، قَاطِرًا أَحَدَهُمَا فِي عَجُزِ صَاحِبِهِ، فِي عُنُقِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قِرْبَةٌ، فَوَضَعَ الْقِرْبَتَيْنِ. قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا كَانَ فِي النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْكَ، وَلَا أَبْغَضَ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْكَ، قَالَ: لِلَّهِ أَبُوكَ، وَمَا يَجْمَعُ هَذَا؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ وَأَدْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكُنْتُ أَرْجُو فِي لِقَائِكَ أَنْ تُخْبِرَنِي أَنَّ لِي تَوْبَةً وَمَخْرَجًا، وَكُنْتُ أَخْشَى فِي لِقَائِكَ أَنْ تُخْبِرَنِي أَنَّهُ لَا تَوْبَةَ لِي، فَقَالَ: أَفِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ. قُلْتُ: وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي عِشْرَةِ النِّسَاءِ. رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
نعیم بن قعنب ریاحی بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لئے آیا ، تم وہ مجھے نہیں ملے ، میں نے ایک خاتون کو دیکھا ، تو اس سے دریافت کیا: تو اس خاتون نے بتایا: وہ اپنی زمین پر گئے ہوئے ہیں ، اسی دوران حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ دو اونٹوں کو ہانک کر لاتے ہوئے تشریف لے آئے ، اونٹ آگے پیچھے تھے اور ان میں سے ہر ایک کی گردن میں ایک مشکیزہ تھا، انہوں نے دونوں مشکیزے رکھ دئیے ، تو میں نے کہا : اے حضرت ابو ذر غفاری ! مجھے دنیا میں سب سے زیادہ آپ سے ملاقات پسند ہے، اور آپ سے ملاقات سب سے زیادہ نا پسند بھی ہے، انہوں نے فرمایا: کیا کہہ رہے ہو بھئی ؟ یہ دونوں صورتیں کیسے جمع ہو سکتی ہیں ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بچی کو زندہ دفن کر دیا تھا ، تم میری خواہش تھی کہ میں آپ سے ملوں اور آپ مجھے بتائیں کہ کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش ہے؟ اور مجھے آپ سے ملتے ہوئے یہ اندیشہ بھی تھا کہ کہیں آپ مجھے یہ نہ کہہ دیں کہ میرے لیے توبہ کی گنجائش نہیں ہے، حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا زمانہ جاہلیت میں ایسا ہوا تھا؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! تو انہوں نے فرمایا : تم نے پہلے جو کچھ کیا، اللہ تعالیٰ اس کے حوالے سے درگزر کرے ، ( علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں: ) میں یہ کہتا ہوں : یہ مکمل روایت آگے چل کر ، خواتین کے ساتھ طرز سلوک سے متعلق باب میں آئے گی۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔
أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ فَلَمْ أَجِدْهُ وَرَأَيْتُ الْمَرْأَةَ فَسَأَلْتُهَا ← نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ الرِّيَاحِيِّ
Hadith 73
