مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ بَابٌ فِي ذَبْحِ ذَوَاتِ الدَّرِّ] · حديث 6084
6084 - عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَمَدْتُ إِلَى عَنْزٍ أَذْبَحُهَا، فَثَغَتْ فَسَمِعَ ثَغْوَتَهَا، فَقَالَ: " يَا جَابِرُ، لَا تَقْطَعْ دَرًّا، وَلَا نَسْلًا ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هِيَ عَتُودٌ عَلَفْتُهَا الْبَلَحَ وَالرُّطَبَ حَتَّى سَمِنَتْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائےمیں ذبح کرنےکےلئےبکری کی طرف بڑھاتووہ منمنانےلگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی منمناہٹ سنی تو فر مایا:جابرتم کسی دودھ دینے والی یاحاملہ بکری کوذبح نہ کرنامیں نےعرض کی:یا رسول اللہ! یہ ایک سال کی بکری ہے میں نے اسے چارے میں کچی کجھر یں اور تازہ کھجور یں کھلائیں ہیں‘ یہاں تک کہ یہ موٹی تازی ہوگئی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
يَا جَابِرُ، لَا تَقْطَعْ دَرًّا، وَلَا نَسْلًا قُلْتُ: ← ثَغَوْتهَا ← «دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ فَعَمَدْتُ إِلَى عَنْزٍ أَذْبَحُهَا، فَثَغَتْ ← جَابِرٍ
Hadith 6084
