مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ حَرَّمَ عَلَى نَفْسِهِ شَيْئًا] · حديث 6974
6974 - عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بِضَرْعٍ فَأَخَذَ يَأْكُلُ مِنْهُ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: ادْنُوا. فَدَنَا الْقَوْمُ وَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: إِنِّي حَرَّمْتُ الضَّرْعَ. قَالَ: هَذَا مِنْ خَطَرَاتِ الشَّيْطَانِ؛ ادْنُ وَكُلْ وَكَفِّرْ يَمِينَكَ. ثُمَّ تَلَا: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ} [المائدة: 87]). رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
مسروق بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ (شایداس سے مراد پنڈیا ہے) کے پاس آئے اور اس میں سے کھانے لگے آپ نے حاضرین سے کہا تم لوگ آگے آجاؤ، تو لوگ آگے ہو گئے ایک شخص ان میں سے پیچھے ہٹ گیا، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارا کیا معاملہ ہے؟ اس نے جواب دیا: میں نے ہنڈیا کوحرام قرار دیا ہے، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:یہ شیطان کا خیال ہے آگے آؤ اور کھاؤ اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی:’’اے ایمان والو! تم ان پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار نہ دو ، جو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دی ہیں‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح رجال ہیں۔
إِنِّي حَرَّمْتُ الضَّرْعَ ← عَبْدُ اللَّهِ: مَا شَأْنُكَ؟ ← لِلْقَوْمِ: ادْنُوا. فَدَنَا الْقَوْمُ وَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنْهُمْ، ← أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بِضَرْعٍ فَأَخَذَ يَأْكُلُ مِنْهُ، ← مَسْرُوقٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The book of oaths and vows] › [Chapter on those who forbade themselves a thing] · Hadith 6974
