مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّبَا] · حديث 6571
6571 - عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ [عَنْ عَمِّهِ] قَالَ: «كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ فِيمَا يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ كُلَّ رِبًا مَوْضُوعٌ، إِنَّ أَوَّلَ رِبًا يُوضَعُ رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَأَبُو حُرَّةَ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ.
ابوحرہ رقاشی، اپنے چچا کایہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر ایام تشریق کے درمیانی دن میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام کو پکڑا تھا، آپ نے جو بات ارشاد فرمائی، اس میں یہ بات بھی تھی : آپ نے فرمایا: ’’اے لوگو! ہر سود کالعدم قرار دیا جاتا ہے، اور وہ سب سے پہلا سود جسے کالعدم قرارد یا جاتا ہے ، وہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا وصول کیا جانے والاسود ہے، ( سودی معاملات میں ) تمہارے اصل اموال تمہیں مل جائیں گے، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے، اور وہ ضعیف ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ ابو حرہ نامی راوی کو امام ابوداؤد نے ثقہ قراردیا ہے، اور یحییٰ بن معین نے انہیں ضعیف کہا ہے۔
أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ
Hadith 6571
