مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ بَابٌ جَامِعٌ فِيمَنْ هُوَ شَهِيدٌ] · حديث 3878
3878 - عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالزَّكَاةِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ: " مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ؟ " قَالُوا: الَّذِي يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ: " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذَنْ لِقَلِيلٌ: الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ، وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ، وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ، وَالْحَرْقُ شَهَادَةٌ، وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ، وَالسُّلُّ شَهَادَةٌ، وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وُثِّقَ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ بِنَحْوِ هَذَا فِي الْجِهَادِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زکوٰۃ لے کر تین مرتبہ حاضر ہوا آپ نے ارشادفرمایا: تم لوگ اپنے درمیان کسے شہید شمار کر تے ہو؟ لوگوں نے عرض کی : اس شخص کو جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: اس صورت میں میری امت کے شہید کم ہوں گے اللہ کی راہ میں قتل ہو نا شہادت ہے طاعون شہادت ہے نفاس کے دوران عورت کا مرنا شہادت ہے جل جانا شہادت ہے ڈوب جانا شہادت ہے سل کی بیماری شہادت ہے پیٹ ( کی بیماری کی وجہ سے مرجانا ) شہادت ہے‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نےمعجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے‘ جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اس کی تو ثیق بھی کی گئی ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: ) میں یہ کہتا ہوں اس کی مانند دیگر احادیث جہاد سے متعلق باب میں آ گے آئیں گی‘ اگر اللہ نے چاہا۔
الَّذِي يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ← مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ؟ ← «أَتَيْتُ النَّبِيَّ بِالزَّكَاةِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ← سَلْمَانَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › A collector's door among whom is a martyr] · Hadith 3878
