مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابُ فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ] · حديث 5262
5262 - عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ: «قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: " أَنْ تُسْلِمَ قَلْبَكَ، وَأَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ ". قَالَ: فَأَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الْإِيمَانُ ". قَالَ: وَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: " أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ ". قَالَ: فَأَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الْهِجْرَةُ ". قَالَ: وَمَا الْهِجْرَةُ؟ قَالَ: " أَنْ تَهْجُرَ السُّوءَ ". قَالَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الْجِهَادُ ". قَالَ: وَمَا الْجِهَادُ؟ قَالَ: " أَنْ تُقَاتِلَ الْكُفَّارَ إِذَا لَقِيتَهُمْ ". قَالَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثُمَّ عَمَلَانِ هُمَا أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِمِثْلِهِمَا: حَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ أَوْ عُمْرَةٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت عمرو بن عبسہؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یارسول اللہ ! اسلام کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے دل کوفر ما نبر دار کرلواور مسلمان تمہاری زبان اور تمہارے ہاتھ کے حوالے سے محفوظ رہیں اس شخص نے دریافت کیا: کون سا اسلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: ایمان اس نے عرض کی: ایمان کیا ہے نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیےجانے پرایمان رکھواس نے دریافت کیا: کون سا ایمان زیادہ فضیلت رکھتا ہے آپ نے ارشادفر ما یا : ہجرت اس نے عرض کی: ہجرت سے مرادکیا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ کہ تم برائی سے لاتعلق ہو جاؤ اس نے دریافت کیا : کون سی ہجرت زیادہ فضیلت رکھتی ہے آپ نے ارشادفر مایا: جہاداس نے در یافت کیا: جہاد سے مرادکیا ہے؟ ( نبی اکرم ﷺ نے ارشادفر ما یا :) یہ کہ جب تمہارا کفار سے سامنا ہوتوتم ان کے ساتھ جنگ کرواس نے دریافت کیا: کون سا جہا دز یادہ فضیلت رکھتا ہے ‘جس میں آدمی کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیے جائیں اور اس کا خون بہا د یا جائے نبی اکرم ﷺ نے ارشادفر ما یا :’’ پھر دوعمل ہیں جوتمام اعمال سے زیادہ افضل ہیں البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے‘ جس نے ان دونوں کی ما نندعمل کیا ہو ‘مبر ور حج اور عمر ہ‘‘۔یہ روایت امام حمد نے اورامام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘اور اس کے رجال ’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں ۔
رَجُلٌ: ← عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ
Hadith 5262
