مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ فِيمَا صُبِغَ بِالنَّجَاسَةِ] · حديث 1576
1576 - عَنِ الْحَسَنِ «أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ، فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ، قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَأَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ حُلَلِ الْحِيرَةِ ; لِأَنَّهَا تُصْبَغُ بِالْبَوْلِ، فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ، قَدْ لَبِسَهُنَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَبِسْنَاهُنَّ فِي عَهْدِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْحَسَنُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ وَلَا مِنْ أُبَيٍّ.
حسن ( بصری) بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ ارادہ کیا کہ وہ حج تمتع سے منع کر دیں تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ کو اس بات کا اختیارنہیں ہے کیونکہ ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ ارادہ کیا کہ وہ "حیرہ" کے حلوں سے منع کر دیں کیونکہ ان پر پیشاب کے ذریعے رنگ کیا جاتا ہے تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ کو یہ اختیارنہیں ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کپڑا پہنا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم نے بھی اسے پہنا ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے حسن نامی راوی نے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اور نہ ہی حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے۔
الْحَسَنِ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › A door that was dyed with impurity] · Hadith 1576
