مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ بَابُ أَدَبِ السَّفَرِ] · حديث 5293
5293 - «عَنْ (أَبِي) رَائِطَةَ بْنِ كَرَامَةَ الْمَذْحِجِيِّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِقَوْمٍ سَفْرٍ: " لَا يَصْحَبَنَّكُمْ خِلَالٌ مِنْ هَذِهِ النَّعَمِ - (يَعْنِي) الضَّوَالِّ، وَلَا يَصْحَبْنَ أَحَدٌ مِنْكُمْ ضَالَّةً، وَلَا يَرُدَّنَ سَائِلًا إِنْ كُنْتُمْ تُرِيدُونَ الرِّبْحَ وَالسَّلَامَةَ، وَلَا يَصْحَبَنَّكُمْ مِنَ النَّاسِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ سَاحِرٌ وَلَا سَاحِرَةٌ، وَلَا كَاهِنٌ وَلَا كَاهِنَةٌ، وَلَا مُنَجِّمٌ وَلَا مُنَجِّمَةٌ، وَلَا شَاعِرٌ وَلَا شَاعِرَةٌ، وَإِنَّ كُلَّ عَذَابٍ يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُعَذِّبَ بِهِ أَحَدًا مِنْ عِبَادِهِ فَإِنَّمَا يُبْعَثُ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَأَنْهَاكُمْ عَنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ عِشَاءً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ اللِّهْبِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت ابورائطہ بن کرامہ مذحجی ؓبیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے‘ آپ نے سفر کرنے والے لوگوں سے فرمایا تمہارے ساتھ ان جانوروں میں سے کوئی کمزور جانور نہ ہو اور نہ ہی تم میں سے کسی ایک کے ساتھ کوئی گمشدہ جانور ہو اور اگرتم منافع اور سلامتی چاہتے ہو‘ توکسی مانگنے والے کو واپس نہ کر نا اورلوگوں میں سے کوئی ایساشخص تمہارے ساتھ ہرگز نہ رہے ‘جو جادوگر ہو ‘یا جادو گر عورت ہو ‘یا کاہن مرد ہو‘ یا کا ہن عورت ہو ‘یا نجومی مرد ہو ‘یا نجومی عورت ہو ‘یا شاعر مرد ہو ‘یا شاعر عورت ہواگرتم اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پرایمان رکھتے ہو بے شک ہروہ عذاب کے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی ایک کو عذاب دینا چاہیے‘ تو اسے آسمان دنیا کی طرف بھیجا جائے گا تو میں تمہیں شام کے وقت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے منع کرتا ہوں ۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوعلی لہبی ہے‘ اور وہ ضعیف ہے۔
كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ ← (أَبِي) رَائِطَةَ بْنِ كَرَامَةَ الْمَذْحِجِيِّ
Hadith 5293
