مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ] · حديث 94
94 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ رَجُلٌ أَقْبَحُ النَّاسِ وَجْهًا، وَأَقْبَحُ النَّاسِ ثِيَابًا، وَأَنْتَنُ النَّاسِ رِيحًا، جِلْفًا جَافِيًا يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: مَنْ خَلَقَكَ؟ قَالَ: " اللَّهُ ". قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ قَالَ: " اللَّهُ ". قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ قَالَ: " اللَّهُ ". قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " سُبْحَانَ اللَّهِ " - مَرَّتَيْنِ - وَأَمْسَكَ بِجَبْهَتِهِ، فَقَامَ الرَّجُلُ فَذَهَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " عَلَيَّ بِالرَّجُلِ " فَطَلَبْنَاهُ فَكَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " هَذَا إِبْلِيسُ جَاءَ يُشَكِّكُكُمْ فِي دِينِكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَقَدْ رَمَاهُ النَّاسُ بِالْوَضْعِ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي بَابِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس موجود تھے، اسی دوران ایک شخص آیا جس کا چہرہ انتہائی بد صورت تھا، اور اس کا لباس بھی انتہائی برا تھا ، وہ انتہائی بد بو دار تھا اور وہ بازو پھیلا کر چل رہا تھا، وہ لوگوں کی گردنیں پھلا نگتا ہو ، آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، اس نے دریافت کیا: آپ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے ، اس نے دریافت کیا: آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ نے ، اس نے دریافت کیا : زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے اس نے دریافت کیا: اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ سبحان اللہ کہا، اور اپنی پیشانی کو پکڑ لیا، ( یا شاید اس کی پیشانی کو پکڑ لیا) وہ شخص اٹھا اور چلا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کو میرے پاس لے کر آؤ ! راوی کہتے ہیں : ہم نے اسے تلاش کیا ، لیکن وہ یوں ہو گیا جیسے وہ تھا ہی نہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ ابلیس تھا، جو تمہارے دین کے بارے میں تمہیں شک کا شکار کرنے کے لیے آیا تھا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس ک سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر مدینی ہے، جو علی بن مدینی کے والد ہیں ، لوگوں نے ان پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ( اس نوعیت کی دوسری ) احادیث، شیطان اور س کے لشکروں سے متعلق باب میں آئیں گی۔
ابْنِ عُمَرَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Door] · Hadith 94
