مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ يَقْرَأُ السَّجْدَةَ وَهُوَ مَاشٍ] · حديث 3713
3713 - عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: كُنَّا نَقْرَأُ عَلَى أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ وَهُوَ يَمْشِي فَإِذَا مَرَرْنَا بِسَجْدَةٍ كَبَّرَ وَكَبَّرْنَا وَسَجَدَ وَسَجَدْنَا ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيُكَبِّرُ وَيَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَنَقُولُ: عَلَيْكُمُ السَّلَامُ. وَزَعَمَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهِمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ فِيهِ كَلَامٌ لِاخْتِلَاطِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
عطاء بن سائب بیان کرتے ہیں: ہم عبدالرحمن سلمی کے سامنے تلاوت کیا کرتے تھے وہ اس وقت چل رہے ہوتے تھے ‘ جب ہم آیت سجدہ تلاوت کرتے تھے تو وہ بھی تکبیر کہتے تھے‘ اور ہم بھی تکبیر کہتے تھے‘ اور وہ بھی اشارے کے ذریعے سجدہ کر لیتے تھے ‘ اور ہم بھی اشارے کے ذریعے سجدہ کر لیتے تھے‘ اور پھر وہ اپناسراٹھاتے ہوئے تکبیر کہتے تھے‘ اور یہ کہتے تھے السلام علیکم تو ہم بھی یہ کہتے تھے علیکم السلام ۔ ابوعبدالرحمن کا یہ بیان کرنا ہے : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ عطاء بن سائب نامی راوی کے اس کے اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں ۔
عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › A section of the one who reads the prostration while he is walking] · Hadith 3713
