مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ شِدَّةِ الْبَلَاءِ] · حديث 3738
3738 - عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ عِرْقُ الْكُلْيَةِ - وَهِيَ الْخَاصِرَةُ - تَأْخُذُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَهْرًا مَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى النَّاسِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَكْرَبُ حَتَّى آخُذَ بِيَدِهِ فَأَتْفُلُ فِيهَا بِالْقُرْآنِ ثُمَّ أَكُبُّهَا عَلَى وَجْهِهِ أَلْتَمِسُ بِذَلِكَ بَرَكَةَ الْقُرْآنِ وَبَرَكَةَ يَدِهِ فَأَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ مُجَابُ الدَّعْوَةِ فَادْعُ اللَّهَ يُفَرَّجْ عَنْكَ مَا أَنْتَ فِيهِ؟ فَيَقُولُ: " يَا عَائِشَةُ أَنَا أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: پہلو کی ایک رگ کی تکلیف کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک لوگوں کے پاس تشریف نہیں لے جاسکے میں آپ کو تکلیف کا شکار دیکھتی تھی یہاں تک کہ میں آپ کا ہاتھ پکڑ لیتی تھی پھرقر آن پڑھ کر اس پردم کرتی تھی اور پھر آپ کے دست مبارک کو آپ کے چہرے پر پھیر دیتی تھی میں اس کے ذریعے قرآن کی برکت حاصل کرنا چاہتی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی برکت حاصل کر نا چاہتی تھی میں یہ گزارش کرتی تھی یارسول اللہ! آپ کی دعا قبول ہوتی ہے‘ تو آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ آپ جس صورت حال کا شکار ہیں اللہ تعالیٰ اسے ختم کر دے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اے عائشہ!’’ میں سب سے زیادہ سخت آزمائش کا شکار کیا جا تا ہوں‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے‘ اور وہ تدلیس کرنے والا ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
عَائِشَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter of severity of calamity] · Hadith 3738
