مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابُ جَزَاءِ الصَّيْدِ] · حديث 5419
5419 - عَنْ مُصْعَبٍ الْمَكِّيِّ قَالَ: أَدْرَكْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَالْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، فَسَمِعْتُهُمْ يُحَدِّثُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَمَرَ اللَّهُ شَجَرَةً لَيْلَةَ الْغَارِ فَنَبَتَتْ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَتَرَتْهُ، وَأَمَرَ الْعَنْكَبُوتَ فَنَسَجَتْ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَتَرَتْهُ، وَأَمَرَ اللَّهُ حَمَامَتَيْنِ وَحْشِيَّتَيْنِ فَوَقَعَتَا بِفَمِ الْغَارِ، فَأَقْبَلَ فِتْيَانُ قُرَيْشٍ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ بِعِصِيِّهِمْ وَهَرَاوِيهِمْ وَسُيُوفِهِمْ، حَتَّى إِذَا كَانُوا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْرَ أَرْبَعِينَ ذِرَاعًا فَعَجَّلَ بَعْضُهُمْ فَنَظَرَ فِي الْغَارِ، فَرَأَى حَمَامَتَيْنِ بِفَمِ الْغَارِ فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالُوا: مَا لَكَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ حَمَامَتَيْنِ بِفَمِ الْغَارِ فَعَرَفْتُ أَنْ لَيْسَ فِيهِ أَحَدٌ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ فَعَرَفَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ دَرَأَ عَنْهُ بِهِمَا فَدَعَا لَهُنَّ، وَسَمَّتَ عَلَيْهِنَّ، وَفَرَضَ جَزَاءَهُنَّ، وَأُقْرِرْنَ فِي الْحَرَمِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَمُصْعَبٌ الْمَكِّيُّ وَالَّذِي رَوَى عَنْهُ، وَهُوَ عُوَيْنُ بْنُ عَمْرٍو الْقَيْسِيُّ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
مصعب مکی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت انس بن مالک ؓ حضرت زید بن ارقمؓ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کو پایا میں نے ان حضرات کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم ﷺ نے ارشادفر ما یا : ’’غاروالی رات اللہ تعالیٰ نے درخت کو حکم دیا تو وہ نبی اکرم ﷺکے سامنے پھوٹ پڑا اور نبی اکرم ﷺکو چھپالیا اللہ تعالیٰ نے مکڑی کوحکم دیا اس نے نبی اکرم ﷺ کے آگے جالا بن دیا اور نبی اکرم ﷺ کو چھپالیا اللہ تعالیٰ نے جنگلی کبوتریوں کوحکم دیاوہ دونوں غار کے دروازے پر آئیں قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ نو جوان جن کاتعلق ہر شاخ سے تھاوہ اپنی لاٹھیاں اپنے ہتھیاراورتلوار یں لے کر آئے‘ یہاں تک کہ جب وہ نبی اکرم ﷺسے چالیس بالشت کے فاصلے پررہ گئے اوران میں سے ایک شخص آ گے آ یا اس نے غار کا جائزہ لیا تو اس کو غارکا جائزہ لیا توانہوں نے غار کے منہ پر دوکبوتر یاں نظر آئیں وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس گیا اس ان کے ساتھیوں نے در یافت کیا: کیا ہوا اس نے جواب دیا: میں نے غار کے منہ پر دو کبوتر یاں دیکھی ہیں جس سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہاں کوئی نہیں ہے اس نے جو بات کہی تھی ۔ نبی اکرم ﷺنے وہ سن لی اور آپ کو پتہ چل گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کبوتریوں کے ذریعے ان لوگوں کو آپ سے پرے کر دیا ہے‘ تو نبی اکرم ﷺنے ان ( کبوتریوں)کے حق میں دعا کی اور آپ نے ان کو برکت کی دعا دی‘ اوران کی جز امقر ر کی‘ اور انہیں حرم میں برقرار رکھا‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ مصعب بن عمیر نامی راوی اور جس نے اس سے روایت نقل کی ہے۔ یعنی عوین بن عمر وقیسی میں نے کسی کوان دونوں کے حالات بیان کر تے ہوئے نہیں پایا ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
أَدْرَكْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَالْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، فَسَمِعْتُهُمْ يُحَدِّثُونَ ← مُصْعَبٍ الْمَكِّيِّ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Pilgrimage] › [Punishment of Hunting] · Hadith 5419
