مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ الرِّحْلَةِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ] · حديث 561
561 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: بَلَغَنِي عَنْ رَجُلٍ حَدِيثٌ سَمِعَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاشْتَرَيْتُ بَعِيرًا، ثُمَّ شَدَدْتُ رَحْلِي، فَسِرْتُ إِلَيْهِ شَهْرًا حَتَّى قَدِمْتُ الشَّامَ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَنِيسٍ، فَقُلْتُ لِلْبَوَّابِ: قُلْ لَهُ جَابِرٌ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَخَرَجَ يَطَأُ ثَوْبَهُ، فَاعْتَنَقَنِي وَاعْتَنَقْتُهُ، فَقُلْتُ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْقِصَاصِ فَخَشِيتَ أَنْ تَمُوتَ أَوْ أَمُوتَ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعَهُ، فَقَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " يَحْشُرُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - أَوْ قَالَ: الْعِبَادَ - عُرَاةً، غُرْلًا، بُهْمًا " قَالَ: قُلْنَا: وَمَا بُهْمًا؟ قَالَ: " لَيْسَ مَعَهُمْ شَيْءٌ. ثُمَّ يُنَادِيهِمْ بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ مَنْ بَعُدَ كَمَا يَسْمَعُهُ مَنْ قَرُبَ: أَنَا الدَّيَّانُ، أَنَا الْمَالِكُ، لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَنْ يَدْخُلَ النَّارَ وَلَهُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَقٌّ حَتَّى أَقْضِيَهُ مِنْهُ، وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ وَلِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عِنْدَهُ حَقٌّ حَتَّى أَقْضِيَهُ مِنْهُ، حَتَّى اللَّطْمَةُ ". قَالَ: قُلْنَا: كَيْفَ هَذَا وَإِنَّمَا نَأْتِي عُرَاةً غُرْلًا بُهْمًا؟ قَالَ: " الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ضَعِيفٌ.
عبداللہ بن محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : ایک صاحب کے بارے میں ، مجھے یہ اطلاع ملی کہ انہوں نے ایک حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہوئی ہے ، میں نے ایک اونٹ خریدا اس پر پالان بندھا اور پھر ایک ماہ تک سفر کر کے شام آیا ، وہ صاحب حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے دربان سے کہا: ان سے کہو ! جابر دروازے پر موجود ہے ، دربان نے دریافت کیا : جو عبداللہ کے صاحبزادے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو عبداللہ بن انیس اپنے کپڑے کو پاؤں تلے دیتے ہوئے ( یعنی تیزی سے ) باہر آئے اور مجھ سے گلے ملے ، میں نے کہا : ایک حدیث کے بارے میں ، مجھے آپ کے حوالے سے یہ پتہ چلا ہے کہ آپ نے وہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے ، وہ قصاص ( یعنی قیامت کے دن بدلہ دلوائے جانے ) کے بارے میں ہے ، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ میرے اس حدیث کو سننے سے پہلے کہیں اپ کا یا میرا انتقال نہ ہو جائے ، تو حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے : " قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) بندوں کو برہنہ جسم ، ختنہ کے بغیر حالت میں " بہم " حالت میں اٹھائے گا ( راوی بیان رکتے ہیں : ہم نے اپنے استاد سے پوچھا : لفظ " بہم " کا مطلب کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : وہ شخص جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو ) پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ایسی آواز میں خطاب کرے گا، جسے دور کا شخص بھی اسی طرح سن لے گا ، جس طرح پاس والا سن لے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں دیان ( فیصلہ کرنے والا ) ہوں ، میں مالک ہوں ، اہل جہنم میں سے کسی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہو، جبکہ اس نے کسی جہنمی کا حق دینا ہو جب تک میں اس کا فیصلہ نہیں کر دیتا ، خواہ وہ تھپڑ مارنے کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو ، راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی ( قصاص یا بدلہ دیے جانے ) کا یہ معاملہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ ہم ( جب میدان محشر میں ) آئیں گے تو برہنہ جسم ہوں گے ، ختنے کے بغیر ہوں گے ، اور کوئی چیز بھی پاس نہیں ہو گی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( قیامت کے دن بدلے کے طور پر ) نیکیوں اور برائیوں ( کا لین دن ہو گا ) " ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں عبداللہ بن محمد نامی راوی ضعیف ہے ۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ
Hadith 561
