مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ فِي خَلْوَةِ الْعَالِمِ] · حديث 731
731 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «أَقْبَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى نَشَزٍ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى جَلَسْتُ مُسْتَقْبِلَ وَجْهِهِ - أَوْ وَجْهِي عِنْدَ رُكْبَتِهِ - فَاغْتَنَمْتُ خَلْوَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذُّنُوبِ أَكْبَرُ؟ فَأَعْرَضَ عَنِّي حَتَّى قُلْتُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ بِوَجْهِهِ»، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اونچی جگہ تشریف فرما تھے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ، میرا چہرہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھٹنوں کے مد مقابل آ رہا تھا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خلوت کو غنیمت سمجھا اور دریافت کیا :یا رسول اللہ ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے اعراض کیا ، یہاں تک کہ میں نے تین مرتبہ اپنی بات دہرائی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے ۔۔۔۔۔اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے۔
عبد الله -يعني ابن مسعود-
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › A door in the world] · Hadith 731
