مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ بَابٌ فِي مَسْجِدِ الْفَتْحِ] · حديث 5901
5901 - عَنْ جَابِرٍ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا فِي مَسْجِدِ الْفَتْحِ ثَلَاثًا: يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَيَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ فَاسْتُجِيبَ لَهُ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فَعُرِفَ الْبِشْرُ فِي وَجْهِهِ»، قَالَ جَابِرٌ: فَلَمْ يَنْزِلْ بِي أَمْرٌ مُهِمٌّ غَلِيظٌ إِلَّا تَوَخَّيْتُ تِلْكَ السَّاعَةَ فَأَدْعُو فِيهَا فَأَعْرِفُ الْإِجَابَةَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد فتح میں تین دن دعا مانگی پیر کے دن ،منگل کے دن ،اور بدھ کے دن تو بدھ کے دن آپ کی دعا دو نمازوں کے درمیان قبول ہوگئی جس کے اثرات آپ کے چہرے پر محسوس ہوئے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب بھی مجھے مشکل اور اہم معاملہ درپیش ہوتا ہے ‘ تو میں اس گھڑی کا انتظار کرتا ہوں اور پھر اس گھڑی میں دعا مانگتا ہوں اور پھر دعا کی قبولیت کو پہچان لیتا ہوں ( یعنی اس کی قبولیت کا اثر سامنے آ جاتا ہے )۔یہ روایت امام احمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ
Hadith 5901
