مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ يَفِرُّ مِنَ الْمَوْتِ] · حديث 3896
3896 - عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَثَلُ الَّذِي يَفِرُّ مِنَ الْمَوْتِ كَمَثَلِ الثَّعْلَبِ، تَطْلُبُهُ الْأَرْضُ بِدَيْنٍ فَجَعَلَ يَسْعَى حَتَّى إِذَا أَعْيَا وَابْتَهَرَ دَخَلَ جُحْرَهُ فَقَالَتْ لَهُ الْأَرْضَ: يَا ثَعْلَبُ دَيْنِي، فَخَرَجَ وَلَهُ حُصَاصٌ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى تَقَطَّعَتْ عُنُقُهُ فَمَاتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُعَاذُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيُّ قَالَ الْعُقَيْلِيُّ: لَا يُتَابَعُ عَلَى رَفْعِ حَدِيثِهِ.
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر ما یا ہے: ’’ وہ شخص جوموت سے راہ فراراختیار کر تا ہے اس کی مثال لومڑی کی طرح ہے ‘ جسے زمین تلاش کرتی ہے وہ دوڑتی رہتی ہے یہاں تک کہ جب وہ تھک جاتی ہے ‘ اوراس کا سانس پھول جا تا ہے ‘ تواپنی بل میں داخل ہوجاتی ہے زمین اس سے کہتی ہے: اے لومڑی! میراقرض ؟ وہ نکلتی ہے ‘ تو وہ تیز دوڑ تی ہے‘ اور وہ اسی طرح ( دوڑتی) رہتی ہے ‘ یہاں تک کہ اس کی گردن ٹوٹ جاتی ہے ‘ اور و ہ مر جاتی ہے‘‘ ۔ یہ روایت امام طبرانی نےمعجم کبیر اورمعجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی معاذ بن محمد ہذلی ہے عقیلی بیان کرتے ہیں: اس حدیث کے ’’مرفوع‘‘ ہونے میں اس کی متابعت نہیں کی گئی ہے۔
سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
Hadith 3896
