مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصِّيَامِ] ‹ باب · حديث 5060
5060 - وَعَنِ الْفَلْتَانِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَجُلُوسٌ نَنْتَظِرُهُ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا، وَفِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ فَجَلَسَ طَوِيلًا لَا يَتَكَلَّمُ ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ: " إِنِّي خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ وَقَدْ تَبَيَّنَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ وَمَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَخَرَجْتُ إِلَيْكُمْ لِأُبَيِّنَهَا] لَكُمْ وَأُبَشِّرُكُمْ بِهَا] فَلَقِيتُ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلَيْنِ يَتَلَاحَيَانِ بَيْنَهُمَا الشَّيْطَانُ فَحَجَزْتُ بَيْنَهُمَا فَاخْتُلِسَتْ مِنِّي، فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ. وَأَمَّا مَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَإِنَّهُ أَجْلَحُ الْجَبْهَةِ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ عَرِيضُ النَّحْرِ فِيهِ دِمَاءُ ابْنِ الْعُزَّى أَوْ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ فُلَانٍ» ". وَفِي رِوَايَةٍ: " «أَمَّا لَيْلَةُ الْقَدْرِ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت فلتان بن عاصم ؓ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہم لوگ بیٹھے ہوئے آپ کا انتظار کر ر ہےتھے اسی دوران آپ ہمارےپاس تشریف لائے آپ کے چہرے پر غضب کے آثارتھےآپ کافی دیر بیٹھے رہے آپ نے اس دوران کوئی بات چیت نہیں کی پھر آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے ارشادفرمایا: میں نکل کر تمہاری طرف آیا تو میرے لئے شب قدر واضح تھی اور گمراہی والامسیح ( یعنی دجال ) واضح تھا میں تمہاری طرف نکل کر اس لئے آیا تھا تا کہ تمہیں اس کے بارے میں بتادوں اور اس کے حوالے سے تمہیں اطلاع دے دوں ۔ مسجد میں دو آدمیوں سے میری ملاقات ہوئی جوایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا کر رہے تھے اوران کے درمیان شیطان موجودتھا۔ میں نے ان دونوں کے درمیان جھگڑ اختم کروانا چاہا تو اس دوران مجھ سے وہ علم رخصت ہو گیا یہ (شب قدر ) آخری عشرے میں ہوگی جہاں تک دجال کا تعلق ہے ‘تواس کی پیشانی کے بال اڑے ہوئے ہو نگے‘اس کی آنکھ پر ہاتھ پھیرا گیاہوگا(یعنی وہ کاناہوگا)اس کی گردن چوڑی ہوگی‘ اور اس میں ابن عزی ( راوی کو شک ہے‘ شاید یہ الفاظ ہیں : )عبدالعزی بن فلاں کاخون ( یعنی جھلک) ہوگی ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:’’جہاں تک شب قدر کاتعلق ہے‘ توتم اسے آخری عشرے میں تلاش کرو‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں ۔
اَتَیْتُ النَّبِیَّ ← الفلتان بن عاصم
Hadith 5060
