مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ صِلَةِ الصُّفُوفِ وَسَدِّ الْفُرَجِ] · حديث 2501
2501 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «خِيَارُكُمْ أَلْيَنُكُمْ مَنَاكِبَ فِي الصَّلَاةِ، وَمَا مِنْ خُطْوَةٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ خُطْوَةٍ مَشَاهَا رَجُلٌ إِلَى فُرْجَةٍ فِي الصَّفِّ فَسَدَّهَا» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ كَمَا هَا هُنَا وَالْبَزَّارُ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ: "وَمَا مِنْ خُطْوَةٍ" إِلَى آخِرِهِ وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ حَسَنٌ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ لَيْثُ بْنُ حَمَّادٍ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا ہے: "تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں کن کندھے زیادہ نرم ہوں، اور کوئی بھی قدم اجر کے حوالے سے اس قدم سے زیادہ اجر والا نہیں ہوتا، جسے آدمی اس لئے اٹھاتا ہے تاکہ صف کے درمیان موجود خالی جگہ کو پر کرے"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، جس طرح یہاں ذکر ہوئی ہے، اسے امام بزار نے نقل کیا ہے، تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے ہیں: "کوئی بھی قدم " یہاں سے لے کر آخر تک کے الفاظ نقل نہیں کئے ہیں، امام بزار کی سند حسن ہے، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی لیث بن حماد ہے، جسے امام دار قطنی نے ضعیف قرار دیا ہے۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter Connecting the Rows and Bridging the Gaps] · Hadith 2501
