مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابُ حَجِّ الصَّبِيِّ] · حديث 5690
5690 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «بَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيرُ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ "، قَالَتْ: فَمَا ثَوَابُهُ إِذَا وَقَفَ بِعَرَفَةَ؟ قَالَ: " يُكْتَبُ لِوَالِدَيْهِ بِهِ بِعَدَدِ كُلِّ مَنْ وَقَفَ بِالْمَوْقِفِ عَدَدَ شَعْرِ رُءُوسِهِمْ حَسَنَاتٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيُّ، وَهُوَ مُتَّهَمٌ بِالْكَذِبِ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے ایک خاتون آئی اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! کیا اس کا حج ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! اور تمہیں بھی اجر ملے گا اس خاتون نے عرض کی : جب یہ عرفہ میں وقوف کرے گا تو اس کا ثواب کیا ہوگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’اس کے ماں باپ کو ان تمام افراد کے سروں کے بالوں کی تعداد جتنی نیکیاں ملیں گی جتنے لوگوں نے موقف میں وقوف کیا ہوگا‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن اسماعیل مخزوی ہے اور اس پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
«بَيْنَمَا النَّبِيُّ يَسِيرُ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،
Hadith 5690
