مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ قَتْلِ الْعَقْرَبِ فِي الصَّلَاةِ] · حديث 2459
2459 - عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «دَخَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي فَقَامَ إِلَى جَنْبِهِ فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ، فَجَاءَتْ عَقْرَبُ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ تَرَكَتْهُ، فَذَهَبَتْ نَحْوَ عَلِيٍّ فَضَرَبَهَا بِنَعْلِهِ حَتَّى قَتَلَهَا فَلَمْ يَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَتْلِهَا بَأْسًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِي طَرِيقِ الطَّبَرَانِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى الصَّدَفِيِّ، وَأَحَادِيثُهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ مُسْتَقِيمَةٌ كَمَا قَالَ الْبُخَارِيُّ وَهَذَا مِنْهَا، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم اس وقت نماز ادا کر رہے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہو گئے اور آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنے لگے اسی دوران ایک بچھو آیا اور نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا پھر اس نے نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کو ترک کیا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف بڑھا تو حضرت علی نے اسے جوتا مار کے قتل کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے اسے مارنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اسے امام ابو یعلیٰ نے بھی نقل کیا ہے امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے، جو لیث کا کاتب ہے عبدالملک بن شعیب بن لیث بیان کرتے ہیں: یہ "ثقہ" اور مامون ہے ائمہ یعنی امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام ابو یعلیٰ کے رجال "صحیح" کے رجال ہیں صرف معاویہ بن یحییٰ صدفی کا معاملہ مختلف ہے زہری کے حوالے سے اس کی نقل کردہ احادیث مستقیم ہیں جیسا کہ امام بخاری نے یہ بات بیان کی ہے، اور یہ روایت بھی اس روایات میں سے ایک ہے جمہور نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے۔
عَائِشَةَ
Hadith 2459
