مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ سُؤَالِ الْعَالِمِ عَنْ مَا لَا يُعْلَمْ] · حديث 738
738 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: يَا أَبَا حَسَنٍ، رُبَّمَا شَهِدْتَ وَغِبْنَا، وَرُبَّمَا شَهِدْنَا وَغِبْتَ. ثَلَاثٌ أَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ هَلْ عِنْدَكَ مِنْهُنَّ عِلْمٌ؟ قَالَ عَلِيٌّ: وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: الرَّجُلُ يُحِبُّ الرَّجُلَ وَلَمْ يَرَ مِنْهُ خَيْرًا، وَالرَّجُلُ يُبْغِضُ الرَّجُلَ وَلَمْ يَرَ مِنْهُ شَرًّا؟ قَالَ: نَعَمْ؛ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ الْأَرْوَاحَ فِي الْهَوَى أَجْنَادٌ مُجَنَّدَةٌ، تَلْتَقِي فَتَشَامَّ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ». قَالَ: وَاحِدَةٌ. وَقَالَ: الرَّجُلُ يُحَدِّثُ الْحَدِيثَ إِذْ نَسِيَهُ إِذْ ذَكَرَهُ؟ قَالَ عَلِيٌّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا مِنَ الْقُلُوبِ قَلْبٌ إِلَّا وَلَهُ سَحَابَةٌ كَسَحَابَةِ الْقَمَرِ، بَيْنَمَا الْقَمَرُ يُضِيءُ إِذْ عَلَتْهُ سَحَابَةٌ فَأَظْلَمَ، إِذْ تَجَلَّتْ عَنْهُ فَأَضَاءَ، وَبَيْنَا الرَّجُلُ يُحَدِّثُ الْحَدِيثَ إِذْ عَلَتْهُ سَحَابَةٌ فَنَسِيَ، إِذْ تَجَلَّتْ عَنْهُ فَذَكَرَ». قَالَ عُمَرُ: اثْنَتَانِ. قَالَ: وَالرَّجُلُ يَرَى الرُّؤْيَا فَمِنْهَا مَا يَصْدُقُ وَمِنْهَا مَا يَكْذِبُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ وَلَا أَمَةٍ يَنَامُ فَيَسْتَثْقِلُ نَوْمًا إِلَّا عُرِجَ بِرُوحِهِ إِلَى الْعَرْشِ، فَالَّتِي لَا تَسْتَيْقِظُ إِلَّا عِنْدَ الْعَرْشِ فَتِلْكَ الرُّؤْيَا الَّتِي تَصْدُقُ، وَالَّتِي تَسْتَيْقِظُ دُونَ الْعَرْشِ فَهِيَ الرُّؤْيَا الْتِي تَكْذِبُ». فَقَالَ عُمَرُ: ثَلَاثٌ كُنْتُ فِي طَلَبِهِنَّ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَصَبْتُهُنَّ قَبْلَ الْمَوْتِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ الْعُقَيْلِيُّ: حَدِيثُهُ غَيْرُ مَحْفُوظٍ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ. وَهَذَا الْحَدِيثُ يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے ابوالحسن ! بعض اوقات آپ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس )موجود تھے اور ہم موجود نہیں ہوتے تھے ، اور بعض اووقات ہم موجود ہوتے تھے اور آپ موجود نہیں ہوتے تھے ، میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں سوال کروں گا کہ کیا آپ کے پاس ان کے بارے میں کوئی علم ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ چیزیں کیا ہیں ؟ حضرت عمررضی اللہ عنہ بولے: بعض اوقات ایک شخص کسی دوسرے شخص کے ساتھ محبت رکھتا ہے، حالانکہ اس نے اس دوسرے شخص سے کوئی بھلا ئی نہیں دیکھی ہوتی ہے اسی طرح بعض اوقات کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے بغض رکھتا ہے ، حالانکہ اس نے اس دوسرے شخص سے کوئی برائی نہیں دیکھی ہوتی ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا :جی ہاں !( یعنی میرے پاس اس حوالے سے علم ہے )نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :"ہوی ٰ میں (یعنی عالم ارواح میں )روحیں گروہوں کی شکل میں رہتی تھیں ، وہ ایک دوسرے سے ملتی تھیں ، تو ان میں سے جو ایک دوسرے سے متعارف ہوئیں ، وہ (دنیا میں بھی)ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں ، اور جو وہاں لاتعلق رہیں ، وہ (دنیا میں بھی) ایک دوسرے سے نا مانوس رہتی ہیں "۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک بات ہوگئی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اوقات کوئی شخص کوئی بات بیان کرتا ہے اور پھر وہ بھول جاتا ہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نےنبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرمایا ہوئے سنا ہے : "دلوں میں سے ہر ایک دل کی لیے ایک بادل ہوتا ہے ، جیسے چاند کا بادل ہوتا ہے ، کہ چاند چمک رہا ہوتا ہے اس پر بادل آ جاتا ہے، تو وہ تاریک ہو جاتا ہے ، جب بادل ہٹ جاتا ہے، تو وہ پھر چمکنے لگتا ہے ، اسی طرح کوئی شخص کوئی بات بیان کر رہا ہوتا ہے، اسی دوران اس پر باد آ جاتا ہے ، تو وہ بات بھول جاتا ہے اور جب وہ بادل ہٹ جاتا ہے تو اسے وہ با ت یاد آ جاتی ہے "۔حضرت عمر نے فرمایا : دو باتیں ہو گئی ہیں ، پھر حجرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آدمی مختلف قسل کے خواب دیکھتا ہے ان میں سے کچھ خواب سچے ثابت ہوتے ہیں اور کچھ خواب جھوٹے ثابت ہوتے ہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :جی ہاں ! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :"جو بھی بندہ یا بندی سوتا ہے ، جب اس کی نیند گہری ہو جاتی ہیں تو اس کی روح کو عرش کی طرف لے جایا جاتا ہے ،اگر وہ شخص اس کے پاس پہنچ کر بیدار ہوتا ہے ، تو وہ ایسا خواب ہوتا ہے جو سچا ثابت ہوتا ہے ، اور جو عرش سے پہلے بیدار ہو جاتا ہے ، تو وہ ایسے خواب ہوتے ہیں جو جھوٹے ثابت ہوتے ہیں "۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :تین باتیں تھیں ، جن کی مجھے تلاش تھی ، ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالی کے لیے مخصوص ہے کہ مرنے سے پہلے مجھے ان کا جواب مل گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ازہر بن عبداللہ ہے عقیلی فرماتے ہیں : ابن عجلان کے حوالے سے اس کی نقل کردہ حدیث محفوظ نہیں ہے، اور یہ حدیث اسرائیل کے حوالے سے ابو اسحاق کے حوالے سے حارث کے حوالے سے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ پر "موقوف" ہونے کے طور پر معروف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ۔
ابْنِ عُمَرَ
Hadith 738
