مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ مَا يَقُولُ بَعْدَ الْوُضُوءِ] · حديث 1228
1128 - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ قَالَ: «رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - جَالِسًا بِالْمَقَاعِدِ يَتَوَضَّأُ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَوَقَفَ عَلَى الرَّجُلِ فَقَالَ: لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيَدَيْهِ إِلَى الْمَرْفِقَيْنِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ لَمْ يَتَكَلَّمُ حَتَّى يَقُولَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدَهُ وَرَسُولَهُ - غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ» ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، وَهُوَ مَجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.
عبدالرحمان بن بیلمانی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا ' وہ مقاعد میں بیٹھے ہوئےتھے اور وضو کر رہے تھے ایک شخص ان کے پاس سے گزرا ' اس نے انہیں سلام کیا ' تو انہوں نے اسے جواب نہیں دیا ' وہ وضو کر کے فارغ ہوئے اور مسجد میں آئے تو اس شخص کے پاس آ کر رک گئے اور بولے : میں نے تمہیں جواب صرف اس لیےنہیں دیا کیونکہ میں نے اللہ کے رسول کو یہ ارشا دفرماتے ہوئے سنا ہے: " جو شخص وضو کرتے ہوئے ' دونوں ہاتھ دھوئے اور پھر تین مرتبہ کلی کرے ' تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالے ' اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھوئے ' دونوں بازؤں کو کہنیوں تک دھوئے ' اپنے سر کا مسح کرے ' اور دونوں پاؤں دھوئے اور پھر کلام کرنے سے پہلے یہ پڑھ لے: '' میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ' وہی ایک معبود ہے ' اس کا کوئی شریک نہیں ہے ' اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں''۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ) تو اس شخص کے دو وضوؤں کے درمیان ( کے گناہوں) کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے ' اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمٰن بن بیلمانی ہے ' جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے۔
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ
Hadith 1228
