مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ وَالْجَارِيَةِ] · حديث 1568
1568 - عَنْ أَبِي لَيْلَى قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى صَدْرِهِ أَوْ بَطْنِهِ الْحَسَنُ أَوِ الْحُسَيْنُ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - فَبَالَ، فَرَأَيْتُ بَوْلَهُ أَسَارِيعَ، فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ: " دَعُوا ابْنِي، لَا تُفْزِعُوهُ حَتَّى يَقْضِيَ بَوْلَهُ " ثُمَّ أَتْبَعَهُ الْمَاءَ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ بَيْتَ تَمْرِ الصَّدَقَةِ وَمَعَهُ الْغُلَامُ، فَأَخَذَ تَمْرَةً فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ، فَاسْتَخْرَجَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: " إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
حضرت ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا شاید حضرت حسین رضی اللہ عنہ موجود تھے انہوں نے پیشاب کر دیا میں نے ان کے پیشاب کی لکیریں دیکھیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: میرے بیٹے کو رہنے دو!است پریشان نہ کرو جب تک یہ پیشاب مکمل نہیں کر لیتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پانی ڈال دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اس گھر میں داخل ہوئے جس میں صدقہ کی کھجور یں موجود تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ بچہ بھی تھا اس نے ایک کھجور پکڑی اور اپنے منہ میں ڈال لی او نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ باہر نکال دی اور ارشاد فرمایا: صدقہ ہمارے لیے حلال نہیں ہے۔یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
أَبِي لَيْلَى
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › A door in the urine of a boy and a maid] · Hadith 1568
