مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ أَيْنَ تُتَّخَذُ الْمَسَاجِدُ] · حديث 1965
1965 - «عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ السَّدُوسِيِّ أَنَّهُ جَاءَ بِإِدَاوَةٍ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ غَسَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجْهَهُ وَمَضْمَضَ فِيهِ وَبَزَقَ فِي الْمَاءِ ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ مَلَأَ الْإِدَاوَةَ وَقَالَ: " لَا تَرِدَنَّ مَاءً إِلَّا مَلَأْتَ الْإِدَوَاةَ عَلَى مَا بَقِيَ فِيهَا فَإِنِ أَتَيْتَ بِلَادَكَ فَرُشَّ بِهِ تِلْكَ الْبُقْعَةَ وَاتَّخِذْهُ مَسْجِدًا " قَالَ: فَاتَّخَذُوهُ مَسْجِدًا، قَالَ عُمَرُ: وَقَدْ صَلَّيْتُ أَنَا فِيهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَعُمَرُ بْنُ شَقِيقٍ ذَكَرَهُ هُوَ وَأَبَوْهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِمَا جَرْحًا وَلَا غَيْرَهُ.
حضرت عبداللہ بن عمیر سوسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ سے پانی کا ایک برتن لے کر آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا چہرہ دھویا تھ اس میں کلی کی تھی اور پانی میں لعب ڈالا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں ہاتھ دھو کر برتن کو بھر دیا تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم راستے میں جب بھی کسی پانی کے پاس سے گر رو تو اس برتن میں جو پانی بچ گیا ہو اس میں مزید پانی شامل کر لو جب تم اپنے علاقے میں پہنچو تو اس پانی کو اس جگہ پر چھڑک دینا اور وہاں مسجد بنا دیا راوی کہتے ہیں: تو ان لوگوں نے اس جگہ کو مسجد بنایا عمر نامی راوی کہتے ہیں : میں نے وہاں نماز ادا کی ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے عمر بن شفیق نامی راوی اور اس کے والد کا ذکر ابن ابو حاتم نے کیا ہے ، اور ان دونوں کے بارے میں کسی جرح وغیرہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
أَبَوْهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِمَا جَرْحًا وَلَا غَيْرَهُ. ← الْأَوْسَطِ، وَعُمَرُ بْنُ شَقِيقٍ ذَكَرَهُ هُوَ ← فِيهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ← عُمَرُ: وَقَدْ صَلَّيْتُ ← فَاتَّخَذُوهُ مَسْجِدًا،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter: Where are the Mosques Taken] · Hadith 1965
