مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ مَسَّ كَافِرًا] · حديث 1274
1274 - عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَقْبَلَ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَاوَلَهُ يَدَهُ، فَأَبَى أَنْ يَتَنَاوَلَهَا، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ يَدَهُ فَتَنَاوَلَهَا، فَقَالَ: " يَا جِبْرِيلُ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْخُذَ بِيَدِي؟ " قَالَ: إِنَّكَ أَخَذْتَ بِيَدِ يَهُودِيٍّ، فَكَرِهْتُ أَنْ تَمَسَّ يَدِي يَدًا مَسَّهَا كَافِرٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رِيَاحٍ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.
حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے ' نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک ان کی طرف بڑھایا' لیکن انہوں نے اپنا ہاتھ آگے نہیں کیا' نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا ' پھر آپ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا'' تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا' نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: اے جبرائیل ! پہلے تم نے میرا ہاتھ کیوں نہیں پکڑا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا: (کچھ دیر پہلے) آپ نے ایک یہودی کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا' تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں ایک ایسے ہاتھ کو چھو لوں ' جسے کسی کافر نے مس کیا ہو۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ' اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ریاح ہے' جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔
الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ،
Hadith 1274
