مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ] · حديث 1743
1743 - عَنِ الْمُنْكَدِرِ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ أَخَّرَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ هُنَيْهَةٌ - أَوْ سَاعَةٌ - وَالنَّاسُ يَنْتَظِرُونَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: " مَا تَنْتَظِرُونَ؟ " قَالُوا: نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ. قَالَ: " أَمَا إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا "، ثُمَّ قَالَ: " أَمَا إِنَّهَا صَلَاةٌ لَمْ يُصَلِّهَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ " ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: " النُّجُومُ أَمَانُ السَّمَاءِ، فَإِنْ طُمِسَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ. وَأَنَا أَمَانُ أَصْحَابِي، فَإِذَا قُبِضْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ. وَأَصْحَابِي أَمَانُ أُمَّتِي، فَإِذَا قُبِضَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ. يَا بِلَالُ، أَقِمْ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
حضرت منکدر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک رات آپ تشریف لے گئے آپ نے عشاء کی نماز کو اتنا مؤخر کیا کہ رات کا ایک پہر گزر گیا لوگ مسجد میں انتظار کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگ کس چیز کا انتظار کر رہے ہو لوگوں نے عرض کی : ہم نماز کا انتظار کر رہے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ جب سے اس کا انتظار کر رہے ہو؟ تم لوگ مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوئے ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک یہ ایک ایسی نماز ہے ، جسے تم سے پہلے امتوں میں سے کسی نے ادا نہیں کیا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور ارشاد فرمایا : ستارے آسمان کے محافظ ہیں جب ستارے بجھ جائیں گے، تو اسمان پر وہ چیز آ جائے گی، جس کا وعدہ کیا گیا ہے میں اپنے اصحاب کا محافظ ہوں جب مجھے قبض کر لیا جائے گا ، تو میرے اصحاب پر وہ صورت حال آ جائے گی، جس کا وعدہ کیا گیا ہے، اور میرے اصحاب میری امت کے محافظ ہیں ، جب میرے اصحاب کو قبض کر لیا جائے گا ، تو میری امت پر وہ چیز آ جائے گی، جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے اے بلال ! تم اقامت کہو۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال "ثقہ " ہیں۔
نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ. ← «مَا تَنْتَظِرُونَ؟» ← الْمُنْكَدِرِ،
Hadith 1743
