مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ مَاتَ لَهُ ابْنَانِ] · حديث 3980
3980 - عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاتَ لِي وَلَدَانِ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: " مَنْ مَاتَ لَهُ وَلَدَانِ فِي الْإِسْلَامِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا "، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ لَقِيَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: فَقَالَ لِي: أَنْتَ الَّذِي قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سَلَّمَ فِي الْوَلَدَيْنِ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. فَقَالَ: لَأَنْ يَكُونَ قَالَهُ لِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا غُلِّقَتْ عَلَيْهِ حِمْصُ وَفِلَسْطِينُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
حضرت ابوثعلبہ اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! اسلام میں میرے دو بچے انتقال کر گئے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام میں جس شخص کے دو بچے فوت ہوجائیں اللہ تعالی ٰان دونوں بچوں پر اپنی رحمت کے فضل کی وجہ سے اس شخص کو جنت میں داخل کر دے گا۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد میری ملاقات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے دریافت کیا: تم ہی واہ شخص ہو جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بچوں کے بارے میں وہ بات ارشاد فرمائی تھی؟ میں نے جواب دیا جی ہاں تو انہوں نے فرمایا : اگر یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں ارشاد فرمائی ہوتی ‘ تو یہ میرے نزدیک ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہوتا جس پر حمص اورفلسطین کے دروازے بند ہوتے ہیں ( یعنی ان شہروں میں جتنا ساز وسامان ہے )۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اوراس کے رجال ثقہ ہیں ۔
قُلْتُ ← أَبِي ثَعْلَبَةَ الأَشْجَعِيِّ،
Hadith 3980
