مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابٌ فِيمَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ مِنَ الْمَوْتَاتِ] · حديث 3884
3884 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَعَاذَ مِنْ سَبْعِ مَوْتَاتٍ: " مَوْتِ الْفُجَاءَةِ، وَمِنْ لَدْغِ الْحَيَّةِ، وَمِنَ السَّبُعِ، وَمِنَ الْغَرَقِ، وَمِنَ الْحَرْقِ، وَمِنْ أَنْ يَخِرَّ عَلَى شَيْءٍ أَوْ يَخِرَّ عَلَيْهِ شَيْءٌ، وَمِنَ الْقَتْلِ عِنْدَ فِرَارِ الزَّحْفِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موت کی سات قسم کی صورتوں سے پناہ مانگتے تھے اچانک موت سانپ کے ڈسنے درندے کی وجہ سے ڈوبنے کی وجہ سے جل جانے کی وجہ سے آدمی کے کسی چیز پرگرنے یا آدمی پرکسی چیز کے گرنے کی وجہ سے اور میدان جنگ سے راہ فراراختیار کرتے ہوئے قتل ہوجانے (کی شکل میں آنے والی موت ) سے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) پناہ مانگتے تھے ۔ یہ ر وایت امام احمدامام بزاراورامام طبرانی نےمعجم کبیر اورمعجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے‘ اوراس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
Hadith 3884
