مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابٌ فِي الْعَذَابِ فِي الْقَبْرِ] · حديث 4281
4281 - عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا «أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَخْدِمُهَا، فَلَا تَصْنَعُ عَائِشَةُ إِلَيْهَا شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ إِلَّا قَالَتْ لَهَا الْيَهُودِيَّةُ: وَقَاكِ اللَّهُ عَذَابَ الْقَبْرِ. قَالَتْ: فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِلْقَبْرِ عَذَابٌ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: " لَا، وَعَمَّ ذَاكَ؟ ". قَالَتْ: هَذِهِ يَهُودِيَّةٌ لَا نَصْنَعُ إِلَيْهَا شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ إِلَّا قَالَتْ: وَقَاكِ اللَّهُ عَذَابَ الْقَبْرِ. قَالَ: " كَذَبَتْ يَهُودُ، وَهُمْ عَلَى اللَّهِ كُذُبٌ، لَا عَذَابَ دُونَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ". قَالَتْ: ثُمَّ مَكَثَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ، فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ بِنِصْفِ النَّهَارِ مُشْتَمِلًا بِثَوْبِهِ مُحَمَّرَةً عَيْنَاهُ، وَهُوَ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ: " أَيُّهَا النَّاسُ، أَظَلَّتْكُمُ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، أَيُّهَا النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، أَيُّهَا النَّاسُ اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَقٌّ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: ایک یہودی خاتون ان کی خدمت کیا کرتی تھی سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ جب بھی اسے کوئی چیز دیا کرتی تھیں وہ یہودی خاتون ان سے یہی کہا کرتی تھی اللہ تعالیٰٰ آپ کو قبر کے عذاب سے بچائے سیّدہ عائشہ اپنا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا قیامت سے پہلے قبر میں عذاب ہو گا؟ نبی اکرم ا نے ارشادفرمایا: جی نہیں اس سوال کی وجہ کیا ہے؟ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ یہودی عورت ہے میں جب بھی اس کے ساتھ کوئی اچھائی کرتی ہوں تو وہ یہ کہتی ہے اللہ تعالیٰٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہودی غلط کہتے ہیں: یہ لوگ اللہ تعالیٰٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتے ہیں قیامت کے دن سےپہلے کوئی عذاب نہیں ہو گا سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: پھر جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا اتنا عرصہ گزر گیا ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نصف النہار کے وقت نکلے آپ نے اپنے کپڑے کو لپیٹا ہوا تھا آپ کی آنکھیں سرخ تھیں آپ نے بلند آواز میں پکا کر یہ کہا: ’’ اے لوگو!تم پر ایسے فتنے آئیں گے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے، اے لوگو! اگر تمہیں وہ بات پتہ چل جائے جو میں جانتا ہوں توتم تھوڑا ہنسواورتم زیاده روؤ اے لوگو !تم قبر کے عذاب سے پناہ مانگو کیونکہ قبر کا عذاب حق ہے‘‘۔ (علامہ ہثیمی فرماتے ہیں: ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اور اس کےرجال ’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں۔
Hadith 4281
