مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَحْكَامِ] ‹ [بَابٌ فِي الْخَصْمَيْنِ يُقِيمُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةً] · حديث 7054
7054 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِشُهُودٍ عُدُولٍ فِي عَدَّةٍ وَاحِدَةٍ فَسَاهَمَ بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: " اللَّهُمَّ اقْضِ بَيْنَهُمَا» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو آدمیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مقدمہ پیش کیا، ان دونوں میں سے ہر ایک عادل گواہ لے آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان قرعہ اندازی کی اور یہ دعا کی: اے اللہ! تو ان کے درمیان فیصلہ کردے۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی اسامہ بن زید قرشی ہے اور وہ ضعیف ہے۔
فِيهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. ← اللَّهُمَّ اقْضِ بَيْنَهُمَا» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ،
Hadith 7054
