مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ نَحْوَهُ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ] · حديث 1989
1989 - «عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ لَهُ فَنَزَلْنَا فِي مَكَانٍ كَثِيرِ الثُّومِ، وَإِنَّ أُنَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَصَابُوا مِنْهُ، ثُمَّ جَاءُوا إِلَى الْمُصَلَّى يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَهَاهُمْ عَنْهَا، ثُمَّ جَاءُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى الْمُصَلَّى فَوَجَدَ رِيحَهَا مِنْهُمْ فَقَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ أَبُو الزَّيَّاتِ وَهُوَ مَجْهُولٌ.
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ہم نے ایک ایسی جگہ پر پڑاؤ کیا جہاں لہسن بہت زیادہ تھا مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے اسے حاصل کیا جب وہ لوگ نماز کی جگہ پر آئے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا پھر اس کے بعد جب وہ لوگ نماز ادا کرنے کی جگہ پر آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان لوگوں سے لہسن کی بو محسوس ہوئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرمایا: جس شخص نے اس درخت میں سے کھایا ہو ، وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے "۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس سند میں ایک راوی ابو زیاد ہے، اور وہ مجہول ہے ۔
مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ
Hadith 1989
