مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابُ رَدِّ الْمَغْصُوبِ أَوْ قِيمَتِهِ] · حديث 6872
6872 - عَنْ ذُؤَيْبٍ «أَنْ وَفْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرُّوا بِأُمِّ زَبِيبٍ، فَأَخَذُوا زَرْبِيَّتَهَا، فَرَكِبَ زَبِيبٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَذَ الْوَفْدَ زَرْبِيَّةَ أُمِّي. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُدُّوا عَلَيْهِ زَرْبِيَّةَ أُمِّهِ " فَأَخَذَ مِنَ الَّذِي أَخَذَ زَرْبِيَّةَ أُمِّهِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ وَسَيْفَهُ وَمِنْطَقَتَهُ. ثُمَّ رَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فَمَسَحَ بِهَا رَأْسَ زَبِيبٍ، ثُمَّ قَالَ: " بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ يَا غُلَامُ، وَبَارَكَ أُمَّكَ فِيكَ». قَالَ مُوسَى بْنُ هَارُونَ: الزَّرْبِيَّةُ: مِفْرَشٌ أَثْقَلُ مِنَ الرَّيْلُوكَةِ. قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَزَرَابِيُّ مَبْثُوثَةٌ يَعْنِي: مَبْسُوطَةً .. قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ زَبِيبٍ نَفْسِهِ، وَهَذَا حَدِيثُ ذُؤَيْبٍ، وَقَدْ بَيَّنَهُ صَاحِبُ الْأَطْرَافِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
حضرت ذؤیب بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاوفد اُمّ زبیب کے پاس سے گزرا، ان لوگوں نے اس خاتون کا بچھونا لے لیا، حضرت زبیب رضی اللہ عنہ سوار ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! وفد نے میری والدہ کا بچھونا لے لیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی ماں کا بچھونا اسے واپس کرو، پھر اس شخص نے، جس نے ان کی والدہ کا بچھونا لياتھا اس نے وہ بچھونا کھجور کے ایک صاع اور اپنی تلوار اور پٹکے کے عوض میں خرید لیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک بلند کیا اور اسے حضرت زبیب رضی اللہ عنہ کے سر پر پھیرا اور فرمایا: اے لڑ کے! اللہ تعالیٰ تمہارے اندر برکت رکھے اور تمہارے ماں کو تمہارے حوالے سے برکت نصیب کرے‘‘۔ موسیٰ بن ہارون کہتے ہیں: ’’زر بیہ‘‘ بچھونے کو کہتے ہیں، ’’ریلوکہ‘‘ سے زیادہ وزنی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’پھیلے ہوئے بچھونے ہیں‘‘۔ یعنی بچھے ہوئے ہیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے حضرت زبیب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے اور یہ روایت زؤیب کو نقل کردہ ہے ’’اطراف‘‘ کے مصنف نے یہ بات بیان کی ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔
Hadith 6872
